ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہوناور کے ٹونکا میں پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف جاری احتجاج کو 38دن : کیا ماہی گیروں کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوگی ؟

ہوناور کے ٹونکا میں پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف جاری احتجاج کو 38دن : کیا ماہی گیروں کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوگی ؟

Sun, 14 Mar 2021 20:16:03    S.O. News Service

ہوناور:15؍مارچ  (ایس اؤ نیوز) کاسرکوڈ کے ٹونکا میں تعمیر ہورہے  پرائیویٹ تجارتی بندرگاہ کے خلاف جاری ماہی گیروں کا احتجاج 38ویں دن میں داخل ہوچکا ہے۔

یاد رہے کہ عوام کے مسائل جاننے کے لئے مقامی رکن اسمبلی سنیل نائک نے ایک مرتبہ جائے احتجاج کادورہ کیا تھا البتہ احتجاجیوں کے مطالبات کو حل کرنے اب تک کسی وزیر نے دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ احتجاجیوں کا سامنا  صرف افسران سے ہورہاہے۔ جس کو دیکھ کر کہا جارہا ہے کہ ماہی گیروں کی آواز اقتدار والوں کے لئے صدا بصحر ثابت ہورہی ہے۔

مقامی سطح پر چند لوگ مانتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح کی پرائیویٹ تجارتی بندرگاہ تعمیر ہونے سے علاقے میں تجارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ روزگار کے کئی مواقع فراہم ہونگے۔ مگر انہی لوگوں کا سوال ہے کہ مقامی لوگوں کی زندگی اجاڑ کر منصوبے کا نفاذ کرنا کہاں تک صحیح ہے ؟  پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر سے ساحل پر برسوں سے جھونپڑیوں میں گزارہ کرنےو الوں کی بنیاد ہی ہل گئی ہے  کیونکہ یہ سبھی ماہی گیر پیشہ سے وابستہ ہیں انہیں ماہی گیری کےسوا کوئی اور کام معلوم ہی نہیں ہے۔ اب اچانک ان کی زندگی کی بنیادیں ہی اکھاڑی جارہی ہیں تو وہ کہاں جائیں۔ وہیں پرائیویٹ کمپنی کی طرف سے جو دستاویزات دکھا کر یقین دلانے کی کوشش ہورہی ہے کہ مستقبل میں ماہی گیروں کی زندگی سے کھلواڑ نہیں ہوگا جس کو لے کر ماہی گیر ایسی یقین دہانیوں کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہیں۔ احتجاجیوں۔ کا مطالبہ ہے ملک کے حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے آگے آئیں۔

احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ ہوناور میں بین الاقوامی سطح کی بندرگاہ تعمیر ہونی چاہئے یا نہیں ، اس پر سوال اٹھانے سے پہلے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ تعمیر کے بعد کیا کچھ تبدیلیاں ہونگی۔ بندرگاہ کی تعمیر کے لئے منظور ہوئی زمین کونسی ہے؟ فی الحال کس زمین پر بندرگاہ کی تعمیر ہورہی ہے؟ان سب سوالات کی اعلیٰ  سطح پر جانچ ہونی چاہئے۔ احتجاجی کہتے ہی۔ کہ جب اپنی زندگی ہی ڈوب رہی ہے تو پھر ہم لوگوں کی مجبوری بن جاتی ہے کہ ہم ہرحال میں منصوبے کی مخالفت کریں۔


Share: